صدر ڈونلڈ ٹرمپ ے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ اتوار تک طے پا سکتا ہے، جس کے تحت ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
ان کے مطابق انہیں 99 فیصد یقین ہے کہ اس معاہدے کے بعد ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز بند رہتی اور خطے میں بمباری کا سلسلہ ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے جوہری پروگرام روکنے پر رضامندی ایک مثبت پیش رفت ہے، اور اس معاہدے کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کی تعمیر نو میں کوئی مالی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں ممکنہ تبدیلیوں کے بعد نئی قیادت زیادہ عملی اور معتدل رویہ رکھ سکتی ہے، جبکہ امریکا کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں متعدد ممالک نے کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور قطر شامل ہیں۔
انہوں نے ان دونوں ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے پہلے ہی اس حوالے سے مثبت پیش رفت کے اشارے دیے تھے۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران معاہدے کے تحت ایٹمی ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، اور اس پر سخت نگرانی رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی جوہری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پالیسیوں پر مختلف آراء موجود ہیں، تاہم مجموعی ہدف امن کا قیام ہے۔ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک نے ایران سے متعلق پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا باعث بن سکتا ہے۔