آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں تجویز کردہ ٹیکس اقدامات پر ٹیکس اور قانونی ماہرین نے سنگین خدشات اور آئینی اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔
یہ خدشات کراچی میں منعقدہ کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی پوسٹ بجٹ تقریب کے دوران سامنے آئے، جس میں فنانس بل 2025 کے ٹیکس نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب کی تفصیلات
یہ تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔چیف کمشنر انٹرنل ریونیو ایل ٹی او کراچی زبیر بلال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔انکم ٹیکس تجاویز پر ماہر ٹیکس کنسلٹنٹ حیدر علی پٹیل نے اور سیلز ٹیکس تجاویز پر عدنان مفتی نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈیجیٹل معیشت پر ٹیکس: فنانس بل کی نمایاں جھلک
ماہرین نے ڈیجیٹل معیشت پر ٹیکس نفاذ کو فنانس بل 2025 کی سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا، جس کے مطابق:غیر ملکی ڈیجیٹل کمپنیوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔مقامی ڈیجیٹل لین دین پر 0.25 فیصد سے لے کر 2 فیصد تک کا ٹیکس لگایا گیا ہے، جس کا انحصار لین دین کی نوعیت اور دائرہ کار پر ہوگا۔
ماہرین کے خدشات اور اعتراضات
ماہرین نے فنانس بل کے بعض نکات پر آئینی اور قانونی بنیادوں پر تحفظات کا اظہار کیا، جن میں شامل ہیں:
ٹیکس نظام میں وضاحت اور شفافیت کی کمی۔
ڈیجیٹل سیکٹر میں ٹیکس نفاذ سے متعلق عمل درآمد کے چیلنجز۔
غیر ملکی کمپنیوں پر ٹیکس لگانے کی آئینی حیثیت اور WTO جیسے بین الاقوامی معاہدوں سے ممکنہ تصادم۔
زبیر بلال کا مؤقف
چیف کمشنر زبیر بلال نے اپنے خطاب میں کہا:"ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے ماہرین کی تجاویز انتہائی اہم ہیں۔ ایف بی آر ڈیجیٹل اور جدید معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔"انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ تجاویز پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت ضروری ہے تاکہ ان کا مؤثر اور منصفانہ اطلاق ممکن بنایا جا سکے۔
تجزیہ:
ڈیجیٹل معیشت پر ٹیکس نفاذ کی تجویز سے حکومت کو ممکنہ طور پر اربوں روپے کی آمدن متوقع ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کاروباری برادری اور قانونی ماہرین اس کے نفاذ، آئینی جواز، اور عالمی تجارتی معاہدوں سے مطابقت کے حوالے سے فکر مند نظر آتے ہیں۔