لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے پنجاب حکومت کے بجٹ اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق اہم اعلانات کیے ہیں۔
بجٹ سے متعلق عظمیٰ بخاری کا بیان:
وفاقی بجٹ:
وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا۔عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی۔
پنجاب کا بجٹ:
16 جون کو پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ مریم نواز تمام ترقیاتی منصوبے صوبائی وسائل سے مکمل کر رہی ہیں۔وفاق کا اس وقت کوئی ترقیاتی منصوبہ پنجاب میں نہیں چل رہا۔
تعلیمی اصلاحات پر رانا سکندر حیات کا بیان:
جعلی انرولمنٹ کا خاتمہ:
طلبہ کا ڈیٹا نادرا سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ جعلی انرولمنٹ کا خاتمہ ہو۔
اساتذہ کی کمی اور تعیناتیاں:
حکومت سنبھالتے وقت 1 لاکھ سے زائد اساتذہ کی کمی تھی۔35 ہزار اسکول ہیڈ ماسٹرز کے بغیر چل رہے تھے۔
تعلیمی ریفارمز:
ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن پر پہلی بار سنجیدہ کام کیا گیا۔12 ہزار نئے کلاس رومز بنائے گئے۔رشوت کے ذریعے تبادلوں پر مکمل روک لگا دی گئی۔
سکولوں کا معیار:
وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا:"جہاں میں نے اپنے بیٹے کو داخل کروایا، ایسا سکول پورے پاکستان میں نہیں۔"
نئے پلے گراؤنڈز:
1000 نئے پلے گراؤنڈز بنائے جا رہے ہیں۔
مجموعی خلاصہ:
پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ وفاق کی مدد کے بغیر ترقیاتی منصوبے خود مکمل کر رہی ہے، جبکہ تعلیم کے شعبے میں بھی تاریخی نوعیت کی اصلاحات کی جا رہی ہیں، خاص طور پر ابتدائی تعلیم اور اساتذہ کی بھرتی و تبادلے کے نظام میں شفافیت لائی گئی ہے۔