چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے ملاقات میں عدالتی نظام میں اصلاحات، ٹیکنالوجی کے استعمال، مقدمات کے جلد فیصلوں اور مثبت رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ 15 جون 2025 کے بعد درخواستیں صرف سافٹ کاپی کی صورت میں وصول کرے گی، اور کورٹ روم نمبر 1 کو پیپر لیس بنایا جائے گا۔ فوجداری اپیلوں کی سماعت کے لیے تین خصوصی بینچ تشکیل دیے گئے ہیں، جبکہ سول درخواستوں کے لیے بھی الگ بینچ بنانے کی تجویز ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت عمر قید کے تقریباً 1200 مقدمات زیر التوا ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام اسٹریس کا شکار ہیں، اس لیے مثبت رپورٹنگ کی جائے تاکہ لوگوں کو اچھی باتیں معلوم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ "لوگوں کو بتایا جانا چاہیے کہ اللہ خیر کرے گا"۔چیف جسٹس نے عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا اور بتایا کہ چین کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ وہاں کی سپریم کورٹ میں 367 ججز ہیں اور کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال سے مقدمات کے فیصلوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تجاویز زیر غور ہیں، جن میں دوپہر دو بجے سے پانچ بجے تک مقدمات سننے والے ججوں کو اضافی تنخواہ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی عدلیہ کا دنیا بھر میں ایک الگ مزاج ہے، اور ملک بھر کی ضلعی عدلیہ کا ایک جیسا امتحان ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے اینٹی کرپشن سیل اور ہاٹ لائن کے قیام کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اب تک 14 ہزار کے قریب پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں سے ایک شکایت زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کی ذیلی کمیٹی نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کا مجوزہ ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر کے حق میں ہوں، لیکن ان کی سینیارٹی میں وہ سب سے نیچے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے قانون بنانے ہیں، اور عدالتی فیصلوں کے آنے تک ہمیں ان کا احترام کرنا ہے۔