منگل کی شب مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ میں ایران سے متعلق ہنگامی مشاورتیں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے یہ کال ایران سے متعلق اپنی انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کی، جس میں خطے کی حالیہ کشیدگی اور اسرائیل کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس گفتگو میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں اور ممکنہ امریکی ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی بنکر میں موجود رہتے ہوئے اپنی محدود سیکیورٹی کابینہ سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔ یہ مشاورت ایران کی طرف سے جاری بیلسٹک میزائل حملوں اور اسرائیل کے جوابی اقدامات کے تناظر میں کی گئی۔
امریکی میڈیا میں پہلے ہی یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ:"ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ میں امریکہ کے شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے، جس پر امریکی اداروں میں شدید بحث جاری ہے۔"یہ رابطہ اس ممکنہ پالیسی تبدیلی کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ، خاص طور پر ٹرمپ کے زیر اثر، مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف مزید جارحانہ موقف اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔
پس منظر:
یہ اہم رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی براہِ راست میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں تک جا پہنچی ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے میزائل ڈیفنس سسٹم نے بیشتر حملوں کو فضا میں ناکام بنایا، جبکہ ایران نے اسے اپنی "طویل مہماتی حکمت عملی" قرار دیا۔بین الاقوامی برادری اس وقت شدید تشویش کا شکار ہے کہ کہیں یہ کشیدگی خطے میں وسیع البنیاد جنگ کی شکل نہ اختیار کر جائے۔