ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات میں کشیدگی، فون کالز زیادہ تلخ ہونے کا دعویٰ

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات میں کشیدگی، فون کالز زیادہ تلخ ہونے کا دعویٰ

امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان حالیہ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور اختلافات کو ظاہر کرتی ہے۔

 وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مابین فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو سے لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کرنے اور بمباری کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مشیروں کے سامنے بھی ناراضی کا اظہار کیا کہ اسرائیلی قیادت ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں دیکھتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، اور انہوں نے ایک اور فون کال میں ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اس تناظر میں انہوں نے سابق صدر ہربرٹ ہوور کا حوالہ دیا، جنہیں 1930 کی دہائی کے معاشی بحران کے دوران تنقید کا سامنا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کی، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان ناراضگی واضح ہوتی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی حکومت نے ان مبینہ گفتگوؤں پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، مگر یہ اطلاعات واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں ممکنہ تناؤ کی نشاندہی کرتی ہیں۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ خبریں درست ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان علاقائی معاملات، خاص طور پر ایران، لبنان، اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی کے حوالے سے اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال خطے کے سیاسی اور سکیورٹی حالات کے لیے اہم اثرات رکھ سکتی ہے۔