اسرائیل کے مختلف علاقوں پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے سلسلے میں شیرون اور یروشلم میں میزائل گرنے کی تصدیق ہو گئی ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اسرائیلی میڈیا اور فوجی ذرائع کے مطابق، شیرون کے رہائشی علاقے میں ایک میزائل زمین پر گر کر پھٹا، جس سے معمولی مادی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ یروشلم کے مضافاتی علاقے میں بھی ایک میزائل کے گرنے کی خبر ملی ہے۔ دونوں مقامات پر امدادی ادارے فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔مَگین ڈیوڈ آدوم (MDA)، اسرائیل کی ہنگامی خدمات فراہم کرنے والی ایجنسی، نے تصدیق کی ہے کہ:"تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔"اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے مطابق، میزائل حملوں کے بعد تمام متاثرہ علاقوں میں موجود شہریوں کو بم شیلٹرز سے باہر آنے کی اجازت دے دی گئی ہے، کیونکہ خطرے کی شدت میں کمی آئی ہے۔
اسرائیلی فوج کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ایران نے میزائل حملوں کی شدت کو بتدریج کم کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے طویل مہماتی حکمتِ عملی اپنائی گئی تھی، تاہم اسرائیل کی جوابی کارروائی میں کئی ایرانی میزائل لانچر تباہ کیے گئے، جس کے بعد حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ شب شمالی اور وسطی اسرائیل میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور شہری دفاعی نظام نے درجنوں میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا تھا۔
پس منظر:
ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ کشیدگی حالیہ ہفتوں میں اس وقت شدت اختیار کر گئی جب دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر براہِ راست اور پراکسی حملے کیے گئے۔ موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جب کہ خطے میں دیگر ممالک، بالخصوص ترکی، اردن اور مصر، مسلسل سرحدی و فضائی نگرانی میں مصروف ہیں۔