دریائے سندھ عوام کی لائف لائن، آبی حقوق کا دفاع کریں گے شہبازشریف

بھارت کی جانب سے  سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اقدام باعث تشویش اور  ایک سنگین مسئلہ  ہے ، ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی:صحرائوں اور قحط سے نمٹنے کے عالمی دن  پرپیغام 

 2028 تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے‘ پاکستان ریلویز ملکی معیشت اور مواصلات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ، نقل و حمل کا ایک سستا، تیز اور ماحول دوست ذریعہ ہے:اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر اعظم شہباز شریف نے صحراوئں اور قحط سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پاکستان کے آبی حقوق کے دفاع کے عزم کو دہراتے ہوئے دریائے سندھ کو پاکستان کے عوام کی لائف لائن قرار دیا ہے۔وزیراعظم ہائوس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایسے کسی اقدام کی کوئی گنجائش نہیں، اور دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا دار و مدار ہے، اور پاکستان کے پانی کے حق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے علاقائی امن سے متعلق اہم معاہدوں سمیت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے عزم کا بھی اعادہ کیا، انہوں نے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں تیز کرنے کا اعلان بھی کیا۔زمین سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ ہمارے ملک کا تقریبا 50 فیصد رقبہ مختلف اقسام کی زوال پذیری کا شکار ہے، جس کی وجوہات میں جنگلات کی کٹائی، زیادہ چرائی، سیم و تھور، پانی کی زیادتی اور غیر منصوبہ بند شہری ترقی شامل ہیں۔بیان میں 2022 کے سیلاب اور بار بار خشک سالی کا حوالہ دے کر مسئلے کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان مسائل کو موسمیاتی تبدیلی نے مزید سنگین بنا دیا ہے جس نے قحط، جنگلات کی آگ اور سیلابوں کی شدت اور تسلسل کو بڑھا دیا ہے۔انہوں نے زمین کو پاکستان کی غذائی تحفظ، پانی کی دستیابی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور دیہی روزگار کے لیے اہم اثاثہ قرار دیا‘دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے 2028 تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کی اپ گریڈیشن اور اس کی ریکو ڈک تک توسیع سے متعلق اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں مستقبل کی کارگو اور نقل و حمل کی ضروریات کے پیش نظر پاکستان ریلویز کی ترقی بشمول ML-1 اور ML-3 کی اپ گریڈیشن پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے 2028 تک ریکو ڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے اور ریلوے کی اپ گریڈیشن اور ترقی کے لیے فائنانسنگ کے حوالے سے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔کمیٹی پاکستان ریلویز کی ترقی اور اس کی ریکو ڈک تک توسیع کے لیے درکار فائنانسنگ کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش کرے گی۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز ملکی معیشت اور مواصلات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، پاکستان ریلویز نقل و حمل کا ایک سستا، تیز اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔