ایران کی بحرین، کویت، اردن میں امریکی تنصیبات پر مزید کارروائیاں

ایران کی بحرین، کویت، اردن میں امریکی تنصیبات پر مزید کارروائیاں

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف مزید کارروائیاں کی گئی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران کے شہر اہواز میں بچوں کے کینسر اسپتال اور ایلام میں زائرینِ کربلا کے لیے پانی کی تنصیب کو مبینہ امریکی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کے ردعمل میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی فوج کے فضائی نگرانی اور کنٹرول سے متعلق ریڈار سسٹمز، سپر ہاک ریڈارز، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور جنگی طیاروں کے لیے ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ کویت کے علی السالم ایئر بیس پر مشترکہ ڈرون اور میزائل کارروائی کے ذریعے امریکی فوج کے سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز، ابتدائی وارننگ ریڈار اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور جنگی طیاروں سے متعلق تنصیبات کو خیبر شکن بیلسٹک میزائلوں سے ہدف بنایا گیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران، فلسطین، لبنان اور یمن کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ بیان میں خطے سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگی صورتحال جاری ہے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال کی بحالی خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے مشروط ہے۔دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کو تشویش لاحق ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے اثرات توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔تاہم ان حملوں سے متعلق امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیقی بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ ایسے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا باقی ہے۔