الجزیرہ نے بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے اطراف مبینہ حملوں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دیں

الجزیرہ نے بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے اطراف مبینہ حملوں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دیں

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایران کے بوشہر جوہری بجلی گھر کے اطراف مبینہ امریکی حملوں کے بعد ہونے والے نقصان کی تفصیلات پیش کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 7 جولائی سے 12 جولائی کے درمیان لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے احاطے اور اس کے اطراف نئی تباہی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ تصاویر میں زمین پر بننے والے گڑھوں اور قریبی معاون تنصیبات کے نزدیک حملوں کے مبینہ نشانات بھی نمایاں ہیں۔الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کا تجزیہ ایران سے سامنے آنے والی زمینی ویڈیوز، دستیاب سیٹلائٹ ڈیٹا اور امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کی جاری کردہ معلومات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں صوبہ بوشہر کے نائب گورنر احسان جہانیان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 9 جولائی کو صوبے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر کے اطراف، چوغادک کا ایک فوجی مرکز اور جنوبی ساحلی ماہی گیری بندرگاہ شامل تھے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جوہری ری ایکٹر متاثر نہیں ہوا اور پلانٹ معمول کے مطابق کام کرتا رہا۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان کے مطابق 7 اور 8 جولائی کو ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون ذخائر، بحری اثاثے اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ تاہم امریکی حکام نے بوشہر جوہری پلانٹ یا کسی بھی جوہری مرکز کو حملوں کا ہدف قرار نہیں دیا۔

واضح رہے کہ بوشہر ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر ہے، جہاں ایک فعال جبکہ ایک دوسرا ری ایکٹر زیر تعمیر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مرکز میں جوہری ایندھن اور تابکار مواد موجود ہونے کے باعث کولنگ سسٹم، بجلی کی فراہمی یا حفاظتی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سنگین ماحولیاتی اور انسانی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ریکارڈ کے مطابق مارچ اور اپریل 2026 میں بھی بوشہر پلانٹ کے قریب حملوں اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، تاہم ایران نے ہر بار ری ایکٹر کو محفوظ اور فعال قرار دیا۔آئی اے ای اے نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کبھی بھی مسلح حملوں کا ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ ایسے حملوں کے انسانی جانوں، ماحول اور پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔