ایران نے ہرمزگان صوبے میں مبینہ امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والے آٹھ شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے امریکا پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں چار خواتین اور چار مرد شامل ہیں، جبکہ مردوں میں دو معذور بھائی بھی شامل تھے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ہرمزگان صوبے میں مبینہ غیر قانونی حملوں کے دوران پلوں کو نشانہ بنا کر ایک اور کھلا جنگی جرم کیا، جس کے نتیجے میں آٹھ بے گناہ ایرانی شہری جاں بحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام پہلے سے زیادہ متحد اور پرعزم ہیں اور اپنے وطن کے خلاف ہونے والی اس مبینہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے بھی بندر خمیر میں مبینہ امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے تین شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ افراد پل سے گزر رہے تھے جب حملہ کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے آخری سانس تک ڈٹا رہے گا۔واضح رہے کہ ایرانی حکام کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔