فیفا ورلڈکپ میں ارجنٹینا کے حق میں جانبداری؟ متنازع دعووں کی حقیقت سامنے آگئی

فیفا ورلڈکپ میں ارجنٹینا کے حق میں جانبداری؟ متنازع دعووں کی حقیقت سامنے آگئی

فیفا ورلڈ کپ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی مسلسل فتوحات کے ساتھ ریفری کے بعض متنازع فیصلوں پر بھی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں مختلف ٹیموں کے شائقین اور مبصرین نے اہم مواقع پر کیے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مصر، انگلینڈ اور دیگر ٹیموں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران بعض اہم فیصلوں سے ارجنٹینا کو فائدہ پہنچا۔پری کوارٹر فائنل میں مصر کو 3-2 سے شکست کے بعد مصری فٹبال فیڈریشن اور کوچ حسام حسن نے فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر اور ان کی ٹیم پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وی اے آر کے ذریعے مصر کا ایک گول مسترد کیا گیا، پنالٹی نہیں دی گئی اور ارجنٹینا کے فاتحانہ گول کو برقرار رکھا گیا، جس سے ان کی ٹیم کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف بھی چند فیصلے تنقید کی زد میں رہے۔ شائقین نے اینزو فرنینڈیز کو سخت ٹیکل کے باوجود وارننگ نہ ملنے اور لیونل میسی کے مبینہ فاؤل کے باوجود فیصلہ ارجنٹینا کے حق میں جانے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیا۔

مزید سوالات اس وقت سامنے آئے جب فرانس اور مراکش کے کوارٹر فائنل کے لیے مقرر تمام آن فیلڈ آفیشلز اور لیڈ وی اے آر کا تعلق ارجنٹینا سے ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم اس میچ میں کوئی نمایاں متنازع فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔اسی طرح ابتدائی مرحلے میں لیونل میسی کو ممکنہ ریڈ کارڈ نہ دکھانے، قرعہ اندازی کے طریقہ کار اور ارجنٹینا کو نسبتاً آسان ناک آؤٹ راستہ ملنے پر بھی مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹورنامنٹ میں بعض متنازع فیصلے ضرور دیکھنے میں آئے، لیکن اب تک ایسی کوئی ناقابلِ تردید شہادت موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ ارجنٹینا کے حق میں منظم جانبداری یا کسی سازش کے تحت فیصلے کیے گئے۔