سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر آنکھوں میں آنسو، صدر مملکت، محسن نقوی اور مریم نواز کی تعزیت

سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر آنکھوں میں آنسو، صدر مملکت، محسن نقوی اور مریم نواز کی تعزیت

 پاکستان کی سیاست اور عوام کے لیے بہت غمگین اور متاثر کن ہے۔

 سینیٹر عرفان صدیقی، جو مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین تھے، کا اچانک انتقال پاکستان کے سیاسی حلقوں، کارکنوں اور عوام میں گہرا غم اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وفات کی خبر اور ردعمل:
سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات کی خبر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ ان کی وفات پر پاکستانی سیاستدان، سیاسی کارکن اور عام شہری سب افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا نام اور خدمات آج بھی یاد کی جا رہی ہیں۔
سیاستدانوں کے تعزیتی پیغامات:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری:
انہوں نے عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، اور کہا کہ مرحوم نے پاکستان میں جمہوریت کے لیے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی:
انہوں نے بھی تعزیت کا پیغام دیا اور مرحوم کی صحافتی و سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی مرحوم سیاست اور صحافت کے اعلیٰ روایات کے علمبردار تھے اور ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دعا کی کہ اللہ ان کی روح کو سکون دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف:
انہوں نے بھی تعزیت کا پیغام بھیجا اور کہا کہ عرفان صدیقی ناقابل فراموش سیاسی روایات کے علمبردار تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست ایک باوقار سیاستدان سے محروم ہو گئی ہے اور مرحوم کو دیرپا یاد رکھا جائے گا۔
عوامی اور کارکنوں کا ردعمل:
مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور حامیوں نے سوشل پلیٹ فارمز پر افسوس کا اظہار کیا، اور ان کی وفات کی خبر جلدی سے وائرل ہو گئی۔ ٹویٹر اور ایکس پر ان کا نام ٹرینڈز میں شامل ہو گیا ہے، اور لوگ ان کی خدمات اور سیاسی کردار کو یاد کر رہے ہیں۔