وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مدرسہ آپریشن کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی سختی سے تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدرسہ اور اس کے ساتھ مسجد موجود تھی، اور سوشل میڈیا پر جو دعوے کیے جا رہے ہیں کہ راتوں رات آپریشن ہوا، وہ بالکل غلط ہیں۔
مدرسہ انتظامیہ کے ساتھ طویل رابطہ اور مشاورت
طلال چوہدری نے بتایا کہ جنوری سے مدرسہ انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا گیا تھا، اور مدرسہ انتظامیہ کی رضامندی سے ایک جدید مدرسہ تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدرسے کے 185 طلبہ کو منقول کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی تعلیم کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔
مشاورت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ حکومت نے کوئی بھی قدم بغیر مشاورت کے نہیں اٹھایا، اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین، خاص طور پر علما کرام کے ساتھ مکمل افہام و تفہیم کی بنیاد پر معاملات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے پھیلائے گئے گمراہ کن پروپیگنڈے کی بھی مذمت کی، جس میں کہا گیا کہ 50 مزید مقامات پر آپریشن کیے جائیں گے، اور وضاحت کی کہ اس سلسلے میں وزیر داخلہ سے بات چیت جاری ہے اور تمام اقدامات باہمی مشاورت سے ہوں گے۔
علما کرام کے ساتھ تعلقات اور مثبت کردار
طلال چوہدری نے مولانا عبد الغفور حیدری کے کردار کو خاص طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تمام علما کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے خیالات اور مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔