ویب ڈیسک: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک غیر ذمہ دار، غیر قانونی اور دہشت گرد ریاست بن چکا ہے، جو شام میں دروز برادری کی آڑ میں جارحیت اور مداخلت کر رہا ہے۔
صدر اردوان نے ایک بیان میں کہا کہ ترکیہ نے شام کو ماضی میں تقسیم ہونے سے روکا اور آئندہ بھی اس کی خودمختاری اور وحدت کا مکمل دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا:"ہم نے شام کو کل تقسیم نہیں ہونے دیا، آج بھی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔"
اسرائیل کی کارروائیاں خطے کے لیے خطرہ قرار
ترک صدر نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی شام میں حالیہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ:"اسرائیل دروز برادری کا بہانہ بنا کر شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے، جو کہ ایک ناقابل قبول اقدام ہے۔"
اسرائیل کے حامیوں کو انتباہ
صدر اردوان نے ان قوتوں کو بھی سخت الفاظ میں متنبہ کیا جو اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق:"جو طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں اور اس پر بھروسہ کر رہی ہیں، وہ جلد یا بدیر اپنی سنگین غلطی کا ادراک کریں گی۔"اردوان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی پالیسیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے، تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔
پس منظر: اسرائیل کی شام میں فوجی کارروائیاں
واضح رہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں شامی دارالحکومت دمشق، جبل الدروز اور گولان کے علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ دروز برادری کو شامی فوج سے بچانے کے لیے یہ حملے کر رہے ہیں، تاہم دمشق حکومت اور اس کے اتحادیوں نے ان کارروائیوں کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔