امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نیٹو اتحادیوں کا دفاع نہیں کریں گے جب تک وہ اپنی سیکیورٹی کے اخراجات مناسب طریقے سے نہیں بڑھاتے۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عام بات ہے کہ اگر نیٹو ممالک اپنی سیکیورٹی پر پیسے نہیں خرچ کرتے تو وہ ان کا دفاع نہیں کریں گے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اپنے موقف پر کئی سالوں سے قائم ہیں اور انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں بھی نیٹو اتحادیوں کو اس بات کا باور کرایا تھا کہ ان کے دفاعی اخراجات ناکافی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو کسی بحران کا سامنا ہو، تو وہ یہ دیکھتے ہیں کہ نیٹو ممالک، جیسے فرانس، امریکہ کا دفاع کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے نیٹو کے حوالے سے کہا کہ یہ اتحاد "ممکنہ طور پر مفید" ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس وقت تک جب تک کہ اس کے اخراجات کے معاملے کو حل نہ کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیٹو کی موجودہ حالت میں یہ اتحاد امریکہ کو تجارتی نقصانات سے دوچار کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے جاپان کے ساتھ امریکہ کے دفاعی معاہدے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا جاپان کے ساتھ بہترین تعلق ہے، لیکن معاہدے کے مطابق انہیں جاپان کا دفاع کرنا پڑتا ہے جبکہ جاپان امریکہ کی حفاظت کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صرف فرانس ہی نہیں، بلکہ تمام یورپی ممالک نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر کام کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب امریکہ نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو انہیں اس کا پیشگی اطلاع تک نہیں دی گئی۔ میکرون نے کہا کہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک وفادار اور مخلص اتحادی ہیں۔