پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔
یہ اپیل اس وقت دائر کی گئی جب 12 دسمبر 2024 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اس آرڈیننس کے حوالے سے فیصلہ سنایا تھا اور پی ٹی آئی نے اسے غیر آئینی قرار دینے کی درخواست کی تھی۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کی شقیں، جن میں شق 2، 3، 4، اور 5 شامل ہیں، آئین سے متصادم ہیں اور ان کے ذریعے کیے گئے تمام اقدامات غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ 12 دسمبر 2024 کو آئینی بینچ کی طرف سے سنایا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
پی ٹی آئی نے اپنے درخواست میں صدرِ پاکستان، سیکریٹری کابینہ، اور سیکریٹری قانون کو فریق بنایا ہے، اور ان سے یہ درخواست کی ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کی مختلف شقوں کو آئین کے مطابق قرار دیا جائے۔ انٹرا کورٹ اپیل میں پی ٹی آئی نے اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی جانب سے غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔