پاکستان، افغانستان، ازبکستان ریلوے لائن سے وسطی ایشیا کی تجارت کا نیا دور شروع ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان، افغانستان، ازبکستان ریلوے لائن سے وسطی ایشیا کی تجارت کا نیا دور شروع ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کو ملانے والی ریلوے لائن کے ذریعے خطے میں تجارت کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جو نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ پاکستانی بندرگاہوں کے لیے بھی ایک معاشی سنگ میل ثابت ہوگا۔

شپنگ سیکٹر میں اصلاحات کا جائزہ اجلاس
وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان کے شپنگ سیکٹر اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کی اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں:

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
وفاقی وزراء احد چیمہ، جنید انور چوہدری
اور متعلقہ اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
وزیراعظم کی ہدایات اور وژن
وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اہم نکات پیش کیے:

 علاقائی تجارت:
"پاکستان-افغانستان-ازبکستان ریلوے لائن سے وسطی ایشیائی ممالک کا تجارتی سامان پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیا بھر میں منتقل ہوگا۔"
 شپنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری:
نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو کارپوریٹ ماڈل پر استوار کرنے کا حکم۔
 زرمبادلہ کی بچت:
پاکستانی شپنگ لائنز کی سامان برداری سے ملک میں قیمتی زرمبادلہ محفوظ ہوگا۔فریٹ اخراجات کی مد میں ہونے والے غیر ضروری زرمبادلہ کے اخراجات کم کرنے کے لیے بحری بیڑے میں نئے جہاز شامل کرنے پر زور۔
 شعبہ جاتی اصلاحات:
وزارتِ سمندری امور اور PNSC کو حکم دیا کہ وہ شپنگ سیکٹر کی ازسرنو اصلاحات اور پائیدار بزنس ماڈل فوری طور پر پیش کریں۔
تجزیہ
یہ ریلوے لائن منصوبہ ریجنل اکنامک کنیکٹیوٹی کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ:وسطی ایشیا کے زمینی لاک شدہ ممالک کے لیے پاکستان کو گیٹ وے بنائے گا،
پاکستان کے شپنگ اور ریلوے شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرے گا،اور جنوبی و وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی پل قائم کرے گا۔