خیبرپختونخوا میں امن، خوشحالی اور ترقی کا نیا دور لائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

خیبرپختونخوا میں امن، خوشحالی اور ترقی کا نیا دور لائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2018 تک خیبرپختونخوا میں امن قائم ہو چکا تھا، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلانے سے امن کے لیے دی گئی قربانیاں ضائع ہوئیں۔

 انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مزید خونریزی برداشت نہیں کی جا سکتی تھی، اسی لیے سخت فیصلے کرنا پڑے۔گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور پاکستان کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے متعدد سیاسی خاندانوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں، کئی گھرانے اجڑ گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں نے قوم کے بچوں کے مستقبل اور ملک کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا تھا، لیکن ان کے بقول گزشتہ چھ برسوں میں پیدا ہونے والے حالات نے صوبے کے امن و امان کو شدید نقصان پہنچایا۔

خیبرپختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے، وزیراعظم
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں نے مل کر خیبرپختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر تھا۔ان کے مطابق 2010 کے بعد سے خیبرپختونخوا کو انسداد دہشت گردی کی مد میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم افسوس ہے کہ دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کی استعداد بڑھانے، جدید اسلحہ فراہم کرنے اور اہلکاروں کی تربیت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی 5 ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ بھی تاحال نامکمل ہے۔شہباز شریف کے مطابق وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے وزرائے اعلیٰ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔

ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق فیصلے پر وزیراعظم کی وضاحت
وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال کے حوالے سے انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاسی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کے لیے محنت کی، تاہم ان کے مطابق حالات کی سنگینی کے باعث سخت فیصلے کرنا پڑے۔شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے متعلق کیے گئے فیصلے آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر اتحادی جماعتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مل کر صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے کام کریں گی۔

خیبرپختونخوا میں کرپشن کے الزامات پر بھی اظہارِ خیال
شہباز شریف نے صوبے میں بدعنوانی کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس جماعت نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ حاصل کیے، اس کے دورِ حکومت میں بھی بدعنوانی کے متعدد معاملات سامنے آئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں پینے کے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جبکہ کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی بدعنوانی سامنے آئی۔وزیراعظم نے پلیسر گولڈ منصوبے میں من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ تاہم ان الزامات سے متعلق حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

صوبے کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ 13 برس سے اپنے مسائل کے حل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ صوبے کے شہری چاہتے ہیں کہ انہیں صاف پانی، تعلیم، صحت اور دیگر ضروری سہولتیں ان کی دہلیز پر میسر ہوں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی سرزمین ہے اور قیام پاکستان کے وقت اس خطے کے عوام نے بڑی اکثریت سے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کے عوام اس وقت دہشت گردی، بدامنی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں امن اور ترقی بحال کرنے کا وعدہ
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے تعاون سے خیبرپختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرنے اور صوبے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے دن رات محنت کی اور سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں سے معیشت کو مستحکم کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور تمام متعلقہ فریقوں کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی اور عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا۔