بھارتی وکٹ کیپر بیٹر رشبھ پنت ایک تاریخی کارنامے کے قریب پہنچ گئے ہیں، اور اگر وہ انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے چوتھے میچ میں صرف 101 رنز مزید بنا لیتے ہیں تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھارتی وکٹ کیپر کی حیثیت سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔
رشبھ پنت اب تک جاری سیریز میں شاندار فارم میں نظر آئے ہیں۔ انہوں نے 3 ٹیسٹ میچز میں 2 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 425 رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ اور مستقل مزاجی نے نہ صرف بھارتی ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی، بلکہ شائقین کرکٹ کو بھی متاثر کیا۔
تاریخی بھارتی ریکارڈ سے صرف 101 رنز دور
اب تک یہ اعزاز بدی کندرن کے پاس ہے، جنہوں نے 1964 میں ایک ٹیسٹ سیریز میں 525 رنز بنائے تھے۔ اگر پنت 101 مزید رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ کندرن کا یہ 60 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیں گے اور ٹیسٹ سیریز میں بھارتی وکٹ کیپر کی حیثیت سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بن جائیں گے۔
عالمی ریکارڈ بھی نشانے پر
صرف یہی نہیں، اگر رشبھ پنت اگلے میچز میں مزید 182 رنز بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ جنوبی افریقی وکٹ کیپر ڈینس لنزے کا 606 رنز کا عالمی ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں، جو انہوں نے 1966-67 کی پانچ میچوں پر مشتمل سیریز میں بنایا تھا۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ رشبھ پنت نے ایک مشکل انگلش بولنگ اٹیک کے خلاف غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے، خاص طور پر اس وقت جب بھارتی ٹاپ آرڈر ناکام ہو رہا تھا۔ ان کی بیٹنگ میں جو اعتماد اور مثبت سوچ دکھائی دی، وہی انہیں باقی وکٹ کیپرز سے ممتاز کرتی ہے۔
آنے والا چوتھا ٹیسٹ فیصلہ کن
اب سب کی نظریں چوتھے ٹیسٹ میچ پر مرکوز ہیں، جہاں رشبھ پنت کو نہ صرف اپنی ٹیم کے لیے کارکردگی دکھانی ہے بلکہ ذاتی اعزازات کے نئے سنگ میل بھی عبور کرنے کا موقع ہے۔ اگر وہ یہ کارنامہ سرانجام دے دیتے ہیں تو وہ نہ صرف بھارتی بلکہ عالمی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا لیں گے۔