مولانا فضل الرحمٰن نے چارسدہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔
انہوں نے حکمرانوں اور سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے ساتھ ظلم کیا گیا اور اس ملک کے ساتھ علمائے کرام نے وفاداری کی۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بالادست قوتوں کو محبت اور دلیل سے سمجھایا ہے اور کہا کہ شرافت سے ہماری بات مان لو۔انہوں نے مدارس کے خلاف عالمی سازشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ مدارس کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے، تاہم اللہ کے فضل سے مدارس مضبوط ہو رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں فوجی عدالتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کا مقصد عوام کے حقوق اور عدالتوں کے اختیارات کو محدود کرنا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک بڑی تباہی قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ ترمیم پاس ہو جاتی تو یہ ملک کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
مولانا نے پاکستان کے سودی نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تمام بینک اور ادارے سودی نظام پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل پر ہمارا اختیار ہے اور کوئی بھی طاقت ہمارے وسائل سے ہمیں محروم نہیں کر سکتی۔ فضل الرحمٰن نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہاں امن و امان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے، اور معیشت کی بہتری کے دعوے جھوٹے ہیں۔