سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اب یہ مسئلہ سیاسی قوتوں کو واپس کر دینا چاہیے۔
لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بلوچستان میں جاری اغوا کی وارداتوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ 120 افراد ابھی تک اغوا ہیں، جو کہ اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بن سکا اور طویل عرصے سے اسٹیبلشمنٹ کے زیر انتظام رہا ہے، مگر اس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ فواد چوہدری نے تجویز دی کہ صدر آصف زرداری آل پارٹی کانفرنس بلائیں اور بانی پی ٹی آئی کی شرکت کو یقینی بنائیں، کیونکہ ان کے بغیر یہ کانفرنس کامیاب نہیں ہو سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات ختم کر کے ایک پیج پر آنا چاہیے۔
نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور بانی پی ٹی آئی کو مل کر بلوچستان کی بحالی کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات انتہائی حساس ہیں، اور اگر سیاسی قوتیں متحد نہیں ہوتیں تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔فواد چوہدری نے قومی حکومت بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم اقدام قومی حکومت کی تشکیل ہے تاکہ جلد از جلد الیکشن کی طرف جایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت وفاقی حکومت کی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔