پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو خطے کے توانائی و ٹیلی کام شعبے نشانہ بنیں گے: ایران کی امریکا کو وارننگ

پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو خطے کے توانائی و ٹیلی کام شعبے نشانہ بنیں گے: ایران کی امریکا کو وارننگ

ایران نے امریکہ کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر امریکی فورسز ایرانی پاور پلانٹس یا دیگر توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں تو تہران بھرپور ردِعمل کرے گا، جس میں خطے میں موجود امریکی مفادات والی انفارمیشن اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران خطے میں اپنی اہم توانائی کی تنصیبات اور امریکی مفادات والے اداروں کو ہدف بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران اپنی حفاظت اور خطے کے استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔یہ تناؤ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے ایران میں جو کچھ بچا ہے اسے تباہ کرنا ابھی شروع نہیں کیا، اور اگلے اہداف پل اور پاور پلانٹس ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کی قیادت جانتی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے، اور یہ کارروائی فوری ہونی چاہیے۔ ایران کی یہ وارننگ اس تنازعے کو مزید سنگین سطح پر لے جانے کا امکان رکھتی ہے، خاص طور پر توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں۔یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے اقدامات کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ اور خطے کی سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔