بھارتی اداکارہ اور فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ سے شہرت حاصل کرنے والی امیشا پٹیل نے اپنے خلاف جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ کے حوالے سے اپنا ردعمل دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، امیشا پٹیل کے خلاف 2017 میں ہوئے ایک ایونٹ سے متعلق چیک باؤنس اور معاہدہ کی خلاف ورزی کے کیس میں یہ وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اس وقت یہ وارنٹ جاری کیے تھے جب امیشا کئی بار طلب کیے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔امیشا پٹیل نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعے بتایا کہ یہ ایک پرانا معاملہ ہے جو کئی سال پہلے طے پا چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں پون ورما نامی شخص نے سیٹلمنٹ پر دستخط کیے تھے اور مکمل رقم وصول بھی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، پون ورما نے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے دوبارہ کارروائی شروع کر دی ہے۔ امیشا نے کہا کہ ان کے وکلا اس شخص کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ 2017 میں، پون ورما نے امیشا کو شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے بک کیا تھا اور انہیں ساڑھے 14 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے، مگر وہ اس تقریب میں نہیں جا سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا تھا کہ رقم واپس کریں گی، جس میں سے دس لاکھ روپے لوٹائے گئے، مگر ساڑھے چار لاکھ کا چیک باؤنس ہوا جس پر قانونی کارروائی شروع کی گئی تھی۔امیشا پٹیل نے کہا ہے کہ وہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہیں اور ان لوگوں کو نظر انداز کرنا ترجیح دیتی ہیں جو جھوٹے الزامات کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔