گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی میں ڈمپر مافیا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور شہریوں کی اموات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک اور شہری کی ڈمپر کی زد میں آ کر موت ہونا سندھ حکومت کے لیے ایک شرمندگی کا باعث ہے، اور شہریوں کا غصہ قابو میں رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ ڈمپر مافیا کی طرف سے بے جا حمایت شہریوں کی مزید اموات کا سبب بن رہی ہے، اور یہ مسئلہ خاص طور پر پسماندہ اور متوسط طبقے کے افراد کو متاثر کرتا ہے جو بڑی گاڑیوں اور ٹینکروں کے نیچے آ جاتے ہیں۔انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے اس مافیا کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ صوبائی وزراء اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ کامران ٹیسوری نے شہریوں کو پرامن احتجاج کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ٹینکروں اور ڈمپروں کو جلانا درست عمل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ شہریوں کا غصہ اب قابو میں رکھنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ اگر ڈمپر مافیا کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے تو انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھنے پر مجبور ہوں گے تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔کامران ٹیسوری کے بیانات سندھ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں تاکہ ڈمپر مافیا کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔