پشاور:پشاور ہائی کورٹ نے اسد قیصر کو حفاظتی ضمانت دے دی ہے اور انہیں 8 اپریل تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس عبد الفیاض نے کی۔دوران سماعت، اسد قیصر نے بتایا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے ہر رمضان میں عمرہ کے لیے جاتے ہیں اور اس بار بھی ان کا ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے سماعت کی تاریخ رمضان کے بعد رکھی جائے۔ جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے اٹارنی جنرل آفس سے رپورٹ کی حالت کے بارے میں پوچھا، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مزید وقت کی درخواست کی۔عدالت نے اسد قیصر کو 8 اپریل تک حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے انہیں مقدمات میں گرفتاری سے روک دیا۔سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرم میں ہونے والے حالیہ واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ امن و امان کی بحالی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے افغان پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ حکومت کی قانون سازی جعلی ہے اور عوام کے حقوق کے خلاف ہے۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے ایک جامع ایجنڈا تیار کیا جا سکے۔