اتر پردیش، بھارت میں ایک انجینئر نے اپنے والدین کو قتل کر کے لاشوں کے ٹکڑے کیے اور انہیں دریا میں پھینک دیا۔ پولیس نے ملزم امبیش کو گرفتار کر لیا ہے۔
مقتولین کی شناخت 62 سالہ شیام بہادر اور 60 سالہ بابیتا کے طور پر ہوئی۔ملزم امبیش کی شادی پانچ سال قبل ہوئی تھی، جسے والدین قبول نہیں کر رہے تھے اور گھر میں جھگڑے معمول بن گئے تھے۔امبیش اور اس کی بیوی کے دو بچے بھی ہیں، تاہم والد کے دباؤ پر امبیش نے بیوی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔ بیوی نے پانچ لاکھ روپے بطور نان و نفقہ کا مطالبہ رکھا تھا۔
حادثے کی تفصیل:
8 دسمبر کو امبیش نے والد سے مالی مدد مانگی، جس پر شدید جھگڑا ہوا۔جھگڑے کے دوران امبیش نے والدہ پر سِل بٹا (مسالہ پیسنے والا پتھر) سے حملہ کیا اور والد کے شور مچانے پر ان کے سر پر بھی کئی وار کیے، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔قتل کے بعد ملزم نے شواہد مٹانے کے لیے لاشوں کو آری کی مدد سے ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور بوریوں میں ڈال کر گاڑی سے دریا میں پھینک دیا۔بعد ازاں امبیش نے اپنی بہن کو بتایا کہ والدین جھگڑے کے بعد گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ 13 دسمبر کو بہن نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ایک ہفتے بعد پولیس نے شک کی بناء پر امبیش کو حراست میں لیا، جس نے اعترافِ جرم کر لیا۔
پولیس کارروائی:
پولیس نے آری، قتل میں استعمال ہونے والا پتھر اور لاشوں کے چند ٹکڑے برآمد کر لیے۔