کمبوڈیا میں زیرِ حراست 54 پاکستانیوں کی وطن واپسی کی منظوری دیدی گئی:ترجمان دفتر خارجہ

کمبوڈیا میں زیرِ حراست 54 پاکستانیوں کی وطن واپسی کی منظوری دیدی گئی:ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ایک اہم بیان میں بتایا ہے کہ کمبوڈیا میں زیرِ حراست 54 پاکستانی شہریوں کی جلد وطن واپسی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس اقدام کے تحت یہ افراد اپنے ملک واپس جائیں گے، اور یہ فیصلہ نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ کی ہدایات کے مطابق لیا گیا ہے۔ ترجمان نے اپنی ٹویٹر پوسٹ میں بتایا کہ پاکستانی سفارتخانے نے کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں کے معاملے پر بھرپور سفارتی کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں ان 54 افراد کی جلد واپسی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ یہ افراد ایک اسکیمنگ کمپاؤنڈ پر چھاپے کے دوران گرفتار کیے گئے تھے، جہاں ان کو قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا تھا۔کمبوڈی حکام نے سیئم ریپ صوبہ میں زیرِ حراست ان پاکستانی شہریوں کی جلد واپسی کی منظوری دے دی ہے، جنہیں اب وطن واپس بھیجا جائے گا۔

ان افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستانی سفارتخانہ اقدامات کر رہا ہے تاکہ ان کی واپسی کے دوران کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ کمبوڈی حکام نے ان پاکستانیوں کو "آن لائن فراڈ کے خلاف قانون" کے تحت کسی بھی قانونی کارروائی کے بغیر وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قانون 7 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت سخت قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔