سندھ فوڈ اتھارٹی میں ای-چالان سسٹم کے نفاذ کے لیے انتظامی پابندیاں عائد

سندھ فوڈ اتھارٹی میں ای-چالان سسٹم کے نفاذ کے لیے انتظامی پابندیاں عائد

سندھ حکومت نے فوڈ اتھارٹی میں ای-چالان سسٹم کے مؤثر اور شفاف نفاذ کے لیے متعدد اہم انتظامی اقدامات کیے ہیں تاکہ فوڈ سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

 یہ فیصلے اس نظام کی شفافیت، کارکردگی اور احتساب کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔

عارضی پابندیاں:
10 مارچ 2026 تک، کچھ امور پر عارضی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ ای-چالان کے ذریعے کارروائی کے عمل کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس دوران، نظام کی بہتری اور اصلاحات پر توجہ دی جائے گی۔
انتظامی تقرریوں پر پابندی:
فوڈ اتھارٹی میں تبادلے، تعیناتیاں اور ڈیپوٹیشن میں توسیع پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ادارے میں استحکام اور شفافیت کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ نظام کے نفاذ میں کسی قسم کی بے ترتیبی یا غیرشفافیت نہ آئے۔
اصلاحاتی اقدامات اور نگرانی:
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا ہے کہ نئے ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ نو تشکیل شدہ گورننگ باڈی اس عمل کی نگرانی کرے گی اور ادارے میں شفافیت، جواب دہی اور مؤثر کارکردگی کو یقینی بنائے گی۔
نوٹیفکیشن اور ہدایات:
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی شہزاد فضل عباسی نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت ای-چالان سسٹم کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام عملے کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مقررہ ضوابط کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں۔
نظام کا مقصد اور اہمیت:
وزیر خوراک سندھ نے واضح کیا کہ ای-چالان سسٹم کا بنیادی مقصد فوڈ اتھارٹی میں شفاف اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اس سے ادارے میں ہر سطح پر احتساب ممکن ہوگا اور خوراک کے معیار کی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے گا۔
عوامی اور حفاظتی فوائد:
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سندھ میں خوراک کے معیار کی نگرانی کو بہتر بنانے اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس سے نہ صرف کھانے پینے کی اشیاء کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عوامی صحت کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔یہ تمام اقدامات سندھ میں فوڈ اتھارٹی کے نظام کو جدید بنانے اور اس کے ذریعے عوامی مفادات کا تحفظ کرنے کے عزم کا مظہر ہیں۔