وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یوم آب 2025 کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے، آبی وسائل کے تحفظ اور کرہ ارض کے لیے آبی طور پر محفوظ مستقبل کی تشکیل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا "ریچارج پاکستان" اقدام ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت کے ذریعے موسمیاتی سیلاب کے خطرات اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا موثر نفاذ پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی نصف آبادی پانی کی کمی کا سامنا کر رہی ہے اور اربوں افراد صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کی آلودگی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، اور آبی زمینوں کا خاتمہ جنگلات کے مقابلے تین گنا تیز رفتار سے ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے گلیشیئرز، دریاؤں اور آبی ذخائر پر گہرا انحصار کرتا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی کے دباؤ کے باعث ان آبی وسائل پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
2022 کے سیلاب نے پاکستان کے آبی ذخائر اور آبپاشی کے نظام کو تباہ کن نقصان پہنچایا، جبکہ خشک سالی جیسے حالات بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی آبی تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اس سلسلے میں سندھ طاس معاہدے کا کامیاب نفاذ ہماری آبی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔آخر میں وزیراعظم نے عالمی یوم آب کے موقع پر گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے، آبی وسائل کی حفاظت اور اپنے لوگوں کے لیے پائیدار آبی وسائل کے تحفظ کے عزم کو دوہرایا۔