پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ نے اپنی انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جب اس نے بحیرہ عرب میں تین مختلف کارروائیوں کے دوران ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
یہ کارروائیاں کسٹمز انفورسمنٹ میرین کے ایڈیشنل کلکٹر باسط حسین اور اسسٹنٹ کلکٹر شہزاد علی کی سربراہی میں کی گئیں، جنہیں موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ان کارروائیوں کے دوران، تین مختلف لانچوں — الصدف، الرحمٰن، اور الشیران — کے ذریعے اسمگل ہونے والا 39,000 لیٹر ایرانی ڈیزل ضبط کر لیا گیا۔ ان لانچوں کے ذریعے اسمگلنگ کی جانے والی مالیت تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ روپے تھی۔کسٹمز انفورسمنٹ نے ایرانی ڈیزل اور لانچوں کو کسٹمز ایکٹ کے تحت ضبط کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ضبط شدہ ایرانی ڈیزل کو اے ایس او گودام میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ تینوں لانچوں کو این ایم بی وہارف منتقل کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ سمندری راستے سے ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ میں ملوث منظم گروہ کا قلع قمع کیا جا سکے۔ پاکستان کسٹمز کی یہ کارروائی اسمگلنگ کی روک تھام میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ یہ غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔