ڈی چوک احتجاج :56کارکن جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ایک ڈسچارج ، پولیس نے 57 کارکنوں کو شناخت پریڈ کے بعد عدالت پیش کیا
 اداروں کے خلاف مہم ،اعتراض دور ، درخواست 7 دن میں دوبارہ لگانے کی ہدایت 
اسلام آباد(بیورو رپورٹ)انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر درج مقدمہ میں گرفتار ایک کارکن کو عدم شناخت پر مقدمہ سے ڈسچارج جبکہ 56کارکنوں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔گزشتہ روز سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے 57 کارکنوں کو شناخت پریڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیاگیااور مارگلہ پولیس کی جانب سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعاکی گئی جبکہ وکیل صفائی انصر کیانی نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی،دلائل سننے کے بعدعدالت نے عدم شناخت پر ایک کارکن کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا جبکہ 56 کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر مارگلہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نیڈی چوک احتجاج کے بعد اداروں کے خلاف چلنے والی مہم روکنے کیلئے دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقراررکھتے ہوئے اعتراض دور کرکے درخواست سات روز میں دوبارہ لگانے کی ہدایت کردی۔گزشتہ روزطالب حسین ایڈووکیٹ کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کے دوران درخواست گزار نے کہاکہ اعتراض ہے،میں درخواست گزار ہوں اور ان پرسن ہوں،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے رٹ کس کے خلاف دائر کی ہے،آپ کیا چاہتے ہیں عدالت کس کو ڈائریکشنز دے؟،آپ نے اپنی درخواست میں صدر ، وزیراعظم اور وزرا کو ان پرسن فریق بنایا ہوا ہے، درخواست گزار نے کہاکہ میں نے وزیر اعظم اور وزرا کو اس لیے پارٹی بنایا کیونکہ 26 نومبر والے معاملے میں ملوث ہیں،اخبارات میں ثبوت موجود ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اب اخبارات کے تراشوں کی بنیاد پر تو کسی کو ان پرسن نہیں بلا سکتے، میں نے یا آپ نے تحقیقات نہیں کرنی یہ اداروں کا کام ہیآپ اپنی رٹ کو پراپر بنائیں۔