ایران میں مہنگائی کی سالانہ شرح اب 66 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو شدید مہنگائی اور اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔
ایرانی لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق، ملک کے شماریاتی مرکز کے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے، جولائی میں قیمتوں میں سالانہ اضافے کی شرح 87.9 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق، خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 128.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور کم از کم 8 بنیادی اشیاء کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، جولائی میں ماہانہ مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث، ایران میں ایک محنت کش خاندان کے لیے کم از کم ماہانہ اخراجات تقریباً 90 ملین تومان تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ کم از کم اجرت حاصل کرنے والے مزدور کی ماہانہ تنخواہ صرف تقریباً 25 ملین تومان ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم اجرت بنیادی ضروریات کے صرف ایک چوتھائی کا ہی احاطہ کر پاتی ہے۔ لیبر ایکٹیوسٹ فرامرز توفیقی کے مطابق، بہت سے مزدور اپنی ماہانہ آمدنی سے صرف تقریباً 8 دن کے اخراجات ہی پورے کر پاتے ہیں، اور باقی دنوں کے لیے ان کے پاس رقم نہیں بچتی۔ایران کی معیشت پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں اور خطے میں جاری تنازعات کے نتیجے میں شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ ضروریات کو پورا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔