ملک میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، شرح 11.66 فیصد ریکارڈ

ملک میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، شرح 11.66 فیصد ریکارڈ

ملک میں مہنگائی میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد شرح افراطِ زر گزشتہ دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق ادارہ شماریات پاکستان نے بتایا ہے کہ مئی 2026ء میں سالانہ افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 11.66 فیصد ہو گئی ہے، جو جون 2024ء کے بعد 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔رپورٹ کے مطابق اپریل 2026ء میں مہنگائی کی شرح 10.89 فیصد تھی، جبکہ مئی 2025ء میں یہ صرف 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک اوسط مہنگائی 6.69 فیصد رہی۔

ماہانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں مئی 2026ء میں شہری علاقوں میں 0.68 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 0.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سالانہ بنیاد پر شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.79 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 11.48 فیصد رہی۔ماہرین کے مطابق مہنگائی میں یہ اضافہ اشیائے خوردونوش، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات عام صارفین کی خریداری کی قوت پر پڑ رہے ہیں۔