ویب ڈیسک: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ایک نئے فضائی دفاعی نظام، جسے ’’سدرشن چکر‘‘ کا نام دیا گیا ہے، کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی دعوے کے مطابق یہ نظام حملوں کو ناکام بنانے اور فوجی صلاحیت بڑھانے کے لیے تیار کیا جائے گا، تاہم ماہرین نے اس پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کی یہ کوشش اپنی عسکری ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ہندو انتہاپسندی کو ہوا دینے کی ایک اور سازش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کرشن کے مذہبی استعارے کو فوجی منصوبے سے جوڑ کر بھارتی فوج کو ہندوتوا سیاست کا حصہ بنا دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مشن ’’خودمختاری، تیز، درست اور مؤثر دفاعی ردعمل کی ضمانت‘‘ فراہم کرے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں بھارتی فضائیہ پہلے ہی ’’کویری انجن‘‘ جیسی ناکامیوں کا سامنا کرچکی ہے، جس پر 1989 سے اب تک اربوں روپے ضائع ہو چکے ہیں۔
بھارتی حکومت کو غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کر کے خود انحصاری کی طرف توجہ دینی چاہیے، لیکن حقیقت میں نعرے اور عملی اقدامات میں بڑا فرق ہے۔ماہرین نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں نے نہ صرف بھارتی عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم کیا ہے، بلکہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ غربت، بھوک اور بے روزگاری کے باوجود بھارت اسلحہ کی دوڑ میں مصروف ہے، جبکہ آپریشن سندور جیسی ناکامیوں نے بھارتی فوج کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق ایسے فوجی منصوبے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے اور ہندو انتہاپسندی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔