12 جون 2025 کو احمد آباد سے لندن گیٹ وک جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI‑171، بوئنگ 787‑8 ڈریملائنر، ٹیک آف کے چند لمحوں بعد مقامی رہائشی علاقے (Meghani Nagar) میں منہدم ہو گئی، جس میں 242 افراد سوار تھے، جن میں 230 مسافر اور 12 عملہ شامل تھے .
حادثے کی تفصیلات
طیارہ تقریباً 625 فٹ کی بلندی پر جب Mayday کال کر رہا تھا، حادثہ رونما ہوا ۔
مرکزی شہادتیں:
زیادہ تر افراد بھارتی، 53 برطانوی، 7 پرتگالی، اور 1 کینیڈین شہری ۔
ابتدائی طور پر کم از کم 30 افراد ہلاک بتائے گئے، تاہم مجموعی اموات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔
ریسکیو اور فوری اقدامات
ایمرجنسی ٹیمیں، بشمول NDRF کی 6 یونٹیں، فوری طور پر روانہ کی گئیں ۔
قریبی ہسپتالوں میں زخمیوں کو منتقل کر دیا گیا، فضائی اڈا عارضی طور پر بند ہے ۔
مقامی رہائشی عمارت، خاص طور پر ڈاکٹرز کے ہوسٹل پر طیارہ گرنے سے شدید جانی و مالی نقصان ہوا ۔
سرکاری و عالمی ردعمل
نریندر مودی نے اس حادثے کو "دل دہلا دینے والا" قرار دیتے ہوئے متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور حکومتی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کا اعلان کیا ۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا:"لندن جانے والے طیارے کا حادثہ تباہ کن مناظر پیش کر رہا ہے… میری دعائیں متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں" برٹش ہائی کمیشن نے ANPR کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا اور کنگ چارلس III کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا ۔
طیارے اور تفتیش
حادثہ بوئنگ 787‑8 ڈریملائنر (VT‑ANB) کے ساتھ پیش آیا، جو دسمبر 2013 سے سروس میں تھا ۔
یہ ڈریم لائنر ماڈل کا پہلا ہلاک ہونے والا حادثہ ہے ۔
تحقیقات گزشتہ مراحل میں ہیں: Mayday کال سے مؤید ہوتا ہے کہ حادثے سے پہلے ہی پریشانی کا اشارہ مل چکا تھا ۔
عالمی و کاروباری اثرات
حادثے نے بوئنگ کے حصص کو پری-مارکیٹ میں تقریباً 7–9% کمی کا شکار کیا ۔
یہ 2020 کے Air India Express Kozhikode حادثے کے بعد بھارت کا سب سے سنگین ہوائی حادثہ ہے۔
واضح صورتحال
کل حالات: اے سی دی جائے گا جس میں فوری فیکٹ فائنڈنگ، ریسکیو آپریشنز، اور جذباتی و مالی تعاون شامل ہوگا۔متاثرین اور ان کے اہلخانہ کے لیے کمیونیکشن اور سپورٹ چینلز فعال ہیں۔