’’چند سیکنڈ میں سب کچھ ختم ،یہ صدمہ اب جینے نہیں دے گا‘‘

 چینی لینے رشتہ داروں کے گھر گئی بارش اس قدر برسی جیسے آسمان ٹوٹ پڑا 
ملبے سے گھر کے 6 افراد کی لاشیں نکال کرمیرے سامنے پڑی تھیں :سکینہ
 مظفر آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )خیبر پختونخوا کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر میں سیلاب سے کئی گھر اجڑ گئے، دارالحکومت مظفرآباد سے 50 کلومیٹر دور پہاڑی علاقہ سرلی سچہ میں بھی تباہی ہوئی جہاں بیوہ خاتون 48 سالہ سکینہ بی بی کے خاندان کے 6 افراد بادل پھٹنے سے بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ گئے، سکینہ بی بی کا بیٹا نوید، 7 سالہ پوتا اور خاندان کے دیگر چار افراد زندگی کی بازی ہار گئیاوراس کے خاندان میں کوئی مرد نہیں بچا، ایک نسل دفن ہو گئی ۔اس المناک حادثے میں صرف سکینہ بی بی اور ان کی بیٹی آمنہ زندہ بچے کیونکہ وہ کلائوڈ برسٹ کے وقت اپنے رشتہ داروں کے ہاں موجود تھیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں سکینہ بی بی نے کہا ہے کہ بارش اس قدر برسی جیسے آسمان ٹوٹ پڑا ہو، ایک طوفان میرے گھر کی طرف آ رہا تھا۔ میری تو دنیا ہی ختم ہو گئی، اب زندہ رہنا میرے لیے کوئی معنی نہیں ، یہ صدمہ مجھے اب جینے نہیں دے گا۔تباہی کا ذکر کرتے سکینہ بی بی نے کہا کہ جمعرات کے روز شام چار بجے میرا بیٹا نوید بارش میں بھیگا گھر آیا اوراس نے مجھے کپ چائیپینے کی فرمائش کی، اس وقت میرے گھر چینی نہیں تھی تو میں اپنی بیٹی آمنہ کے ساتھ اپنے پڑوس میں رشتہ دار کے گھر چینی لینے چلی گئی، اس دوران دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈ میں طوفان میرے گھر کو بہا کر لے گیا اور میرا گھر ملیا میٹ ہو گیا،پھر پوری رات تلاش کے بعد پتھروں اور ملبے سے میرے گھر کے چھ افراد کو نکال کر میرے سامنے رکھ دیا گیا۔ سکینہ بی بی کی بیٹی آمنہ بتاتی ہیں کہ چند سیکنڈ میں سب کچھ ختم ہوتے دیکھا، اب میں اور اماں اکیلے رہ گئے ہیں۔ گائوں کے رہائشی قاسم احمد نے بتایا یہ واقعہ اس علاقے کے لیے انتہائی دردناک ہے ،اس گھر کی صرف ایک خاتون اور ان کی دو بیٹیاں زندہ بچی ہیں ،تمام مرد ختم ہو چکے ہیں ،یہ صرف چھ اموات نہیں، بلکہ ایک نسل کا خاتمہ ہے۔ اسی گائوں کے ایک اور رہائشی و سکول ٹیچر راجہ محمد صادق نے بتایا کہ گزشتہ تین چار سال سے کبھی اچانک خوفناک بارشیں ہوتی ہیں تو کبھی بالکل خشک سالی ہو جاتی ہے۔وادی کوٹلہ سے ممبر اسمبلی جاوید ایوب نے بتایا کہ بارشوں سے جانی و مالی نقصانات زیادہ ہوئے ہیں۔ خاص طور پر پل ٹوٹنے سے ایک بڑی آبادی کا زمینی رابطہ کٹ گیا تھا جسے عارضی طور پر سنیچر کے روز بحال کیا گیا اور ابھی صرف فور بائی فور گاڑیاں ہی اس سے گزر سکتی ہیں۔رپورٹ کیمطابق کشمیر میں حالیہ بارشوں اور کلائوڈ برسٹ سے 13 اموات ہوئیں، 350 مکانات متاثر،79 مکمل تباہ اور 271 کو جزوی نقصان پہنچا ۔