دیربالا وادی میں طوفانی بارشیں، سیلابی ریلے سے تباہی، کمسن بچہ جاں بحق

دیربالا وادی میں طوفانی بارشیں، سیلابی ریلے سے تباہی، کمسن بچہ جاں بحق

اپر دیر : خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا (کوہستان) میں شدید بارشوں نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں متعدد سیاحتی مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، زمینی رابطے منقطع ہو گئے اور ایک کمسن بچہ جاں بحق ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق:

ندی نالوں میں طغیانی، ایک قیمتی جان ضائع
شدید بارشوں کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں اور دریائے کوہستان میں طغیانی آ گئی جس سے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ایک بچہ جاں بحق ہو گیا، جبکہ دیگر افراد نے محفوظ مقامات پر پناہ لی۔

رابطہ پل اور سڑکیں بہہ گئیں، سیاح پھنس گئے
جہاز بانڈہ، لاموتی، جندری اور دیگر سیاحتی مقامات پر تین اہم رابطہ پل سیلاب میں بہہ گئے، جس کے بعد ان علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔کمراٹ روڈ بھی متعدد مقامات پر سیلابی پانی کی نذر ہو گئی، جس کی وجہ سے سینکڑوں سیاح پھنس گئے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

بازاروں اور گھروں میں پانی داخل
شدید بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے پاتراک بازار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں متعدد دکانیں اور مکانات زیرِ آب آ گئے۔مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت سامان نکالنے کی کوششیں کیں۔

بجلی کا نظام درہم برہم، کھڑی فصلیں تباہ
سیلاب کے باعث کئی چھوٹے پن بجلی گھر دریا برد ہو گئے جس کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔مزید برآں، قابلِ کاشت اراضی، فصلیں اور میوہ جات کے باغات بھی تباہ ہو گئے، جس سے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں متحرک
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم زمینی رابطے منقطع ہونے اور مسلسل بارش کے باعث ریسکیو سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی آبادی نے حکومت سے فوری امداد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔