ویب ڈیسک : قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی ممکنہ معطلی کو پاکستان کے خلاف "اعلانِ جنگ" قرار دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:“معیشت تباہ ہو چکی ہے، قومی ہم آہنگی مفقود ہے کیونکہ ایک قومی لیڈر جیل میں ہے۔ میڈیا کی آواز دبانے کے لیے ڈیجیٹل پاکستان بل اور پیکا قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے۔”
شیخ رشید: بھارت کی آبی دہشت گردی ناقابلِ قبول
سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا کہ:“سندھ طاس معاہدہ بھارت یک طرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، یہ عالمی قوانین اور دو طرفہ سفارتی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”انہوں نے کہا کہ بھارت کی اس آبی جارحیت کو پاکستان ہرگز قبول نہیں کرے گا، اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
شرجیل میمن: بھارتی اقدام اشتعال انگیزی ہے
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی اس معاملے پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ:“معاہدے کی معطلی ایک اشتعال انگیز اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے، جو خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔”انہوں نے کہا کہ بھارت ماضی میں بھی فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے دنیا کی توجہ اصل مظالم سے ہٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے، اور یہ اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پسِ منظر: سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (بیاس، راوی، ستلج) بھارت جبکہ تین مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کے لیے مختص کیے گئے۔بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی معطلی کا کوئی اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔