ویب ڈیسک: متحدہ عرب امارات نے جدید ٹیکنالوجی کی جانب ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک سسٹم متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جو مستقبل میں شناختی کارڈ (ایمرٹس آئی ڈی) کی جگہ لے سکتا ہے۔
اماراتی وزیر صحت و تحفظ اور وزیر مملکت برائے فیڈرل نیشنل کونسل امور، عبدالرحمٰن العویس نے اعلان کیا کہ یہ نیا نظام مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کام کرے گا، جس میں فیشل ریکگنیشن اور فنگر پرنٹس دونوں شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید بائیومیٹرک سسٹم آئندہ ایک سال کے اندر ملک بھر میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
سہولت اور سیکورٹی کا نیا معیار
اس نظام کے تحت امارات میں رہائش پذیر افراد اور شہری مختلف حکومتی خدمات، ہوائی اڈوں پر سفر، اور دیگر مواقع پر صرف اپنا چہرہ دکھا کر شناخت ظاہر کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ سیکورٹی، شفافیت اور صارفین کی سہولت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
جزوی نفاذ کا آغاز
فی الحال یہ نظام ابوظبی اور دبئی کے ہوائی اڈوں پر جزوی طور پر نافذ کیا جا چکا ہے۔ ابوظبی کا زاید انٹرنیشنل ائیرپورٹ بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے مسافروں کی شناخت حکومتی ڈیٹا بیس کی مدد سے کر رہا ہے، جبکہ دبئی ائیرپورٹ پر قائم "اسمارٹ ٹنل" صرف چند سیکنڈز میں پاسپورٹ کنٹرول مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مختلف شعبوں میں استعمال
یہ جدید بائیومیٹرک نظام مستقبل میں ووٹنگ، ایئرپورٹ انٹری، اور سرکاری سروسز سمیت کئی شعبوں میں شناختی عمل کو تیز تر، محفوظ اور آسان بنائے گا، جو امارات کو ڈیجیٹل گورننس اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک قدم اور آگے لے جائے گا۔