اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے نئے کفایت شعاری اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بازار، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے جبکہ شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ متعلقہ کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کی جائے گی۔ بجٹ میں یہ کٹوتی ماہانہ بنیادوں پر ہوگی تاہم ترقیاتی منصوبے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔کفایت شعاری کے یہ اقدامات بیرون ملک پاکستانی مشنز اور وہاں تعینات مختلف سروسز سے وابستہ افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوں گے۔ تاہم ان کے رہائشی کرایوں، تعلیمی فیس اور طبی سہولیات سے متعلق واجبات کی ادائیگی جاری رکھی جائے گی۔حکومت نے تمام اقسام کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پائیدار اشیا کی خریداری بھی ممنوع ہوگی۔ تاہم آئی ٹی سے متعلق ضروری خریداری کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ تین ماہ کے دوران بیرون ملک تمام سرکاری دوروں اور سفری سرگرمیوں پر پابندی ہوگی، جس میں لازمی نوعیت کے دورے بھی شامل ہیں۔ البتہ اسکالرشپس کے تحت ہونے والے دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی ہوگی۔ حکومت کے فنڈز سے منعقد ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز بھی نہیں ہوں گے۔حکومت نے ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے مہنگے نجی مقامات کے بجائے سرکاری آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کفایت شعاری کے اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں کو کیس ٹو کیس بنیاد پر زیر غور لایا جائے گا، جبکہ صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے اقدامات اپنانے پر غور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کاروباری مراکز کے اوقات کار
نئے احکامات کے تحت دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند کرنا ہوں گے۔شادی کی تقریبات میں صرف ون ڈش کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ضروری نوعیت کے شعبوں کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ فارمیسی، اسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس، بیکریاں، تندور، دودھ اور ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم معمول کے اوقات میں کام جاری رکھ سکیں گے۔حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد موجودہ صورتحال میں ایندھن کی کھپت کم کرنا، سرکاری اخراجات کو محدود کرنا اور اضافی وسائل کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔