گیس کی بندش، ایل پی جی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، شہری اور رکشہ ڈرائیور پریشان

گیس کی بندش، ایل پی جی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، شہری اور رکشہ ڈرائیور پریشان

گیس کی مسلسل بندش اور کم پریشر کے باعث شہریوں کو گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے گھریلو بجٹ مزید متاثر ہونے لگا ہے۔

اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سرکاری طور پر ایل پی جی کی قیمت 308 روپے فی کلو مقرر ہے۔ اس طرح شہریوں کو ایل پی جی سرکاری نرخ کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگی خریدنا پڑ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق 11 کلو گرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بھی سرکاری نرخ سے تقریباً 70 فیصد زیادہ وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھریلو ایندھن کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی بندش یا کم پریشر کے باعث کھانا پکانے سمیت روزمرہ کے گھریلو امور متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی کا استعمال کرنا بھی ان کی استطاعت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔دوسری جانب ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے آٹو رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ ڈرائیوروں کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے روزانہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ کرایوں میں اسی تناسب سے اضافہ کرنا بھی مسافروں کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔

رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں مسلسل اضافے سے ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن کی خریداری میں خرچ ہو رہا ہے، جس سے گھریلو اخراجات پورے کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔شہریوں اور رکشہ ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایل پی جی کی سرکاری قیمت پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو اضافی مالی بوجھ سے نجات مل سکے۔