چینی کے بعد آٹے کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگیں، شہری پریشان

چینی کے بعد آٹے کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگیں، شہری پریشان

لاہور میں گزشتہ چار ماہ سے روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

 شہری چینی کی عدم دستیابی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پہلے ہی پریشان تھے، اب آٹے کی قیمتیں بھی آسمان چھونے لگی ہیں۔ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں ہر کلو کے حساب سے 40 سے 60 روپے اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، گھی اور تیل کی قیمتوں میں بھی 20 سے 40 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 200 روپے تک مہنگی ہو گئی ہے، جبکہ مختلف برانڈز کے آٹے کے تھیلے 1600 روپے تک فروخت کیے جانے لگے ہیں۔ چائے کی پتی، خشک دودھ اور سرف کی قیمتوں میں بھی مرحلہ وار 20 سے 40 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔

شہری اس مصنوعی مہنگائی پر سخت برہم ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ماہرین کے مطابق اس بڑھتی مہنگائی کی بنیادی وجہ ذخیرہ اندوزی اور طلب و رسد کے توازن میں کمی ہے، جس کے باعث عام شہری کی خریداری کی قوت متاثر ہو رہی ہے۔