چینی صدر شی جن پنگ پہلی بار برکس اجلاس سے غیر حاضر

چینی صدر شی جن پنگ پہلی بار برکس اجلاس سے غیر حاضر

چین کے صدر شی جن پنگ 6 اور 7 جولائی کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

صدر بننے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ اس اہم بین الاقوامی اجلاس میں شرکت سے غیر حاضر رہیں گے۔چینی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کی عدم شرکت کی وجہ شیڈولنگ کانفلکٹ ہے، اور ان کی جگہ اجلاس میں وزیراعظم لی کیانگ چین کی نمائندگی کریں گے۔ چینی میڈیا بھی اسی مؤقف کو دہرا رہا ہے کہ مصروف شیڈول کے باعث صدر اجلاس میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔تاہم مغربی ذرائع ابلاغ اور برازیل کے سفارتی مبصرین نے اس عدم شرکت کی ایک مختلف ممکنہ وجہ بیان کی ہے۔ ان کے مطابق برازیل کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خصوصی اسٹیٹ ڈنر پر مدعو کرنا چینی قیادت کے لیے ایک سفارتی ناگواری کا باعث بنا، کیونکہ یہ اقدام چینی صدر کو اجلاس میں ثانوی حیثیت دینے کا تاثر دے سکتا تھا۔

یاد رہے کہ کورونا وبا کے دوران بھی صدر شی جن پنگ نے برکس اجلاس میں ورچوئل شرکت کی تھی اور برکس پلیٹ فارم پر ہمیشہ فعال نظر آئے ہیں۔ لہٰذا ان کی اس بار غیر موجودگی کو عالمی سطح پر ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔برکس گروپ میں چین، بھارت، برازیل، روس اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، جب کہ حالیہ برسوں میں کئی دیگر ممالک کی شمولیت پر بھی غور جاری ہے۔ اجلاس میں اقتصادی تعاون، عالمی گورننس، ڈیجیٹل کرنسی، اور یوکرین و غزہ جیسے عالمی تنازعات پر بحث متوقع ہے۔