قدیم معاشروں میں دھوئیں سے لاشوں کو محفوظ کرنے کی پراسرار روایت دریافت

قدیم معاشروں میں دھوئیں سے لاشوں کو محفوظ کرنے کی پراسرار روایت دریافت

مصر میں لاشوں کو پٹیوں میں لپیٹ کر ممی بنانے کی روایت تو مشہور ہے، لیکن حالیہ تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم زمانے میں چین، جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی امریکا کے کچھ معاشروں میں لاشوں کو دھوئیں سے خشک کرکے ممی بنایا جاتا تھا۔

محققین کے مطابق، جنوبی امریکا کے ملک چلی کے اٹاکاما ساحل کی خشک ہوا قدرتی طور پر لاشوں کو ممی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ تاہم، چین اور جنوب مشرقی ایشیا میں ملنے والی باقیات مرطوب علاقوں سے آئیں، جنہیں ابتدائی طور پر چین، ویتنام، فلپائن، لاؤس، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں تدفین کے مقامات پر دریافت کیا گیا۔محققین نے باقیات کا بغور جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ان پر جلنے کے نشانات بھی موجود ہیں، جو ممکنہ طور پر لاشوں کو دھوئیں سے خشک کرکے محفوظ کرنے کے طریقے کا نتیجہ ہیں۔ جاپان سے حاصل شدہ ہڈیوں کے نمونوں نے بھی دھوئیں سے خشک کرنے کے ثبوت فراہم کیے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل جلانے کے بجائے تحفظ کے لیے کیا جاتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نمونوں میں سے کچھ تقریباً 10 ہزار سال سے زیادہ پرانے ہیں، یعنی یہ روایت مصری ممی بنانے کی روایت سے بھی زیادہ قدیم ہے۔محققین کے مطابق، یہ دریافت قدیم معاشروں میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کے طریقوں اور ثقافتی رسومات کی سمجھ کو مزید وسعت دیتی ہے۔