پاکستان اور بھارت کے درمیان 14 ستمبر کو کھیلے گئے ایشیا کپ میچ کے دوران پیدا ہونے والے ہینڈ شیک تنازع کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سخت حکمت عملی نے عالمی کرکٹ میں توجہ حاصل کر لی۔
اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب ٹاس کے دوران میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے پاکستانی کپتان سلمان آغا سے شیک ہینڈ کرنے سے انکار کیا اور پاکستان ٹیم کے میڈیا منیجر کو ہدایت دی کہ یہ لمحہ کیمرے میں ریکارڈ نہ ہو۔ پی سی بی نے اس رویے کو جانبدارانہ اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا، جس پر پاکستان کے مینیجر نوید اکرم چیمہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ابتدائی طور پر بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی سی سی نے پاکستان کی درخواست مسترد کر دی ہے، لیکن بعد میں صورتحال بدل گئی۔ پی سی بی نے واضح کیا کہ اگر ریفری تبدیل نہ کیا گیا تو پاکستان ایشیا کپ کے باقی میچز نہیں کھیلے گا۔
نتیجتاً، آئی سی سی نے اینڈی پائیکرافٹ کو ایشیا کپ کے باقی میچز سے ہٹا دیا اور سابق ویسٹ انڈین کرکٹر رچی رچرڈسن کو میچ ریفری مقرر کر دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گروپ میچ سے قبل سامنے آیا۔بھارتی میڈیا اب تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان نے ہینڈ شیک تنازع میں سفارتی فتح حاصل کی ہے۔ پی سی بی کی حکمت عملی اور دباؤ نے نہ صرف موجودہ ایشیا کپ بلکہ مستقبل میں پاکستان کی کرکٹ ڈپلومیسی کو بھی مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔