برطانیہ نے انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے دھندے کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت برطانوی سرحدی افسران کی ٹیموں کو بلقان بھیج دیا گیا ہے تاکہ اسمگلرز کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا سکیں۔
برطانوی سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والوں کی تعداد 60 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس خطرے کے پیش نظر بلقان خطے میں آپریشنل ٹیمیں بھیجی گئی ہیں تاکہ انسانی اسمگلرز کے خلاف فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق شبانہ محمود نے مزید کہا کہ حکام اس بات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان ٹیموں کو مستقل بنیادوں پر بھی خطے میں تعینات کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کا ایک بڑا حصہ بلقان کے راستے فرانس کے ساحلوں تک پہنچتا ہے، جہاں سے وہ کشتیوں کے ذریعے برطانوی پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم رواں سال اب تک 36 ہزار سے زائد افراد غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ بحران کے آغاز سے اب تک یہ تعداد 1 لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔