پاک افغان بڑھتی کشیدگی تشویشناک، شہادتوں پر اظہار افسوس، معاملہ افہام وتفہیم سے حل کیا جائے
اسلام آباد (آئی این پی )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کہ سامراج اور صہیونیوں سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے،جس معاہدے کا بہت شور سنتے رہے اور اس پر شادیانے بجائے جا تے رہے ہیں ابھی تک اس کی دو شقوؒں قیدیوں اور لاشوں کے تبادلوں پر بھی مکمل عمل نہیں ہوسکا ، قرآن کریم نے 14 سوسال پہلے سامراج و استکبار کی جانب متوجہ کیا، یہ بستیوں میں داخل ہوتے ہیں،حکمرانیاں حاصل کرتے ہیں مگر ظلم و ستم کیساتھ انسانیت کیساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کا بھی قتل کرتے ہیں، آج دنیا میں بدامنی، انسانیت کی تذلیل کا سبب و موجب بھی یہی امپیریل ازم (، سامراجیت) ، کالونیل ازم (استعماریت) ہے ،پاک افغان کشیدگی تشویشناک، شہادتوں پر گہرے دکھ کا اظہاران خیالات کا اظہار انہوں نے جامع الکوثر اسلام آباد میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی میزبانی میں’’ ہم اور مغرب حضرت آیت ا۔۔۔ خامنہ ای کی آراء کی روشنی میں‘‘ کے عنوان سے کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ حضرت آیت ا۔۔ خامنہ ای کے افکار و آراء کا منبع قرآن پاک ہے ،قرآن کریم پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے 14 سو سال پہلے قرآن پاک کے آفاقی پیغام نے سامراج اور استکبار کی جانب متوجہ کیا ،نشانیاں بتائیں کہ جو زمین میں فسادپھیلانے والا، تہذیبوں و ثقافتوں کو مسمار کرنیوالا اور انسانیت کو قتل کرنے والا ہے اسی استکبار کے مختلف روپ امپیریئل ازم یا کالونیل ازم ہیں