عزاداری سید الشہداء ؑظلم و جبر کیخلاف جدوجہد کا جذبہ عطا کرتی ہے، علامہ ساجد نقوی

 تمام مسالک کے علماء ،ذاکرین اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ  باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں 
راولپنڈی/اسلام آباد (آئی این پی) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم 1448ھ کے آغاز پر علماء و ذاکرین ، واعظین ، بانیان مجالس ، لائسنسداران ، عزاداران ، ماتمی و نوحہ خواں کے نام پیغام میں کہاکہ ماہ محرم الحرام کی آمد آمد ہے،یہ ماہ مقدس ہمیں نواسہ رسول اکرم ؐ  محسن انسانیت‘ امام عالی مقام‘ سیدالشہداء ؑ حضرت امام حسین  ؑاور شہدائے کربلا کے مشن اور جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔محافل عزاداری اور مجالس عزاء کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ حسینیت کے مقاصد اور یزیدیت کے عزائم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جا سکے اور مشن حسین ؑ کی روشنی اور رہنمائی میں دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے راہ عمل اختیار کیا جا سکے۔علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ اگرچہ عزاداری سیدالشہداء برپا کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے اپنے انداز رائج ہیں لیکن پاکستان کے مسلمان اپنے الگ اور مخصوص انداز سے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت اور ان کے مشن کی ترویج کے لیے محافل برپا کرتے ہیں۔ عزاداری سید الشہداء  ؑ ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے، عزاداری کے خلاف اقدام کرتے ہیں۔ ایام عزا کی آمد سے قبل ہی ملک میں سنسنی ‘ خوف‘ بدامنی یا جنگ کا سماں پیدا کیاجاتا ہے، اس صورت حال کا خاتمہ کرنا ریاست‘ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ ، ایام عزاء مسلمانوں کے درمیان دین محمدیؐ اور اہلبیت محمد ؐ کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک حسین موقع کے طور پر آتا ہے لہذا سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت اور انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے۔ تمام مسالک کے علماء ،ذاکرین اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں۔اتحادو وحدت کی فضاء کو مزید مضبوط کریں۔ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین سے اجتناب کرتے ہوئے تعاون اور برداشت کا ماحول پیدا کریں۔اجتماعی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے انتشار و افتراق پھیلانے والی ہر قوت کی حوصلہ شکنی کریں۔انتہاپسندوں سے اعلان لا تعلقی کریںاور ان کے عزائم کے سامنے وحدت کی دیوار کھڑی کردیں۔تاکہ وطن عزیز پاکستان میں فضاء مزید بہتر ہو، تعصب وکشیدگی کا مکمل خاتمہ ہو،شرپسند ناکام و رسواء ہوں ،ہر قسم کی نفرتوں اور عداوتوں کا خاتمہ ہو اور اسلامی و فلاحی معاشرے کے سائے میں پاکستان عالم اسلام کے لیے نمونہ عمل قرار پا سکے۔