پاکستان میں داخلے کی کوشش ناکام فورسز نے50دہشت گردو ں کو گولیوں سے بھون دیا افغانستان میں6ہزار دہشت گرد ہیں:اقوام متحدہ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر کا فائدہ اٹھا کر فتنہ الخوارج کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں دراندازی کی کوشش کی گئی جس کو فوج نے ناکام بنا دیا
سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، 4 روز میں 130 سے زائد خوارج ہلاک‘افغان طالبان رجیم اور بھارت کے درمیان پروپیگنڈا گٹھ جوڑ  بے نقاب کر دیا گیا:آئی ایس پی آر
افغانستان میں القاعدہ کے کئی تربیتی مراکز کام کر رہے ہیں جہاں عسکری تربیت دی جا رہی ہے‘حکومت نے کھلی چھوٹ دی رکھی ہے‘دہشت گرد جدید ہتھیار چلا سکتے ہیں:اقوام متحدہ
پہلا انٹرو
مہمند‘راولپنڈی(آئی این پی)پاک فوج نے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں دراندازی کی کوشش کرنے والے فتن الخوارج کے 45 سے 50 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا  پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر کا فائدہ اٹھا کر فتن الخوارج کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں دراندازی کی کوشش کی گئی، جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا۔ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن خفیہ معلومات پر کیا، اس دوران فتن الخوارج کی بڑی تشکیل کو نشانہ بنایا گیا۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ کے گھنٹے تک جاری رہا، ہلاک خوارج افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے آئے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ فتن الخوارج کے خلاف آپریشنز کے دوران کئی خوارج زخمی ہوئے ‘آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز  نے افغان-بھارتی گٹھ جوڑ بے نقاب کرتے ہوئے بڑی کامیابیاں حاصل کرلیں اور 4 روز کے دوران 130 سے زائد خوارج ہلاک ہوگئے، قبائلی عوام نے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

دوسرا انٹرو

کابل / نیویارک(آئی این پی ) اقوام متحدہ  نے کہا ہے  افغانستان میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) جیسے دہشت گرد گرو موجو دہیں ،یہ گروہ افغانستان کے چھ صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں سرگرم ہیں۔یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگران ٹیم نے 24 جولائی 2025 کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی جو کہ اس نوعیت کی 36 رپورٹ ہے۔رپورٹ کے صفحہ نمبر 16 میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کی اتھارٹی دہشت گرد گروہوں، بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ افغانستان کے چھ صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں سرگرم ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے کئی تربیتی مراکز کام کر رہے ہیں، جن میں سے تین نئے کیمپ ایسے ہیں جہاں القاعدہ اور تحریکِ طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے دہشت گردوں کو عسکری تربیت دی جا رہی ہے۔رپورٹ کے پیراگراف 19 کے مطابق ٹی ٹی پی کے پاس تقریبا 6,000 جنگجو موجود ہیں، جنہیں مختلف اقسام کے جدید ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے، جس سے ان کے حملے مزید ہلاکت خیز ہو گئے ہیں